جینے کو ایک آدھ بہانہ کافی ہوتا ہے
سچا ہو تو ایک فسانہ کافی ہوتا ہے
ہم روٹھیں تو گھر کے کمرے کم پڑ جاتے ہیں
ہم چاہیں تو ایک سرہانہ کافی ہوتا ہے
چاند کو میں نے جب بھی دیکھا یہ احساس ہوا
جیتے جی یہ بات نہ مانی، مر کے مان گئے
سب کہتے تھے، ایک ٹھکانہ کافی ہوتا ہے
شناوراسحاق
No comments:
Post a Comment