وجود کی خبر نہیں، عدم سے آشنا نہیں
ہمارے پاس کچھ نہیں، ہمارے پاس کیا نہیں
اہانتوں کے گھاؤ تھے، گزشتگاں کے داغ تھے
کبھی کے مر چکے ہیں ہم، مگر یہ واقعہ نہیں
وجود کی جڑوں میں گھر بنا لیا تھا خوف نے
یہ عِلتی بہ ذاتِ خود ہے فتنہ ساز، دیکھ لو
جہاں جہاں بشر نہیں، وہاں وہاں خدا نہیں
نظر، شعور، حسن، وقت کیا بہم نہیں یہاں
مسافروں کی چھوڑیۓ، یہ راستہ برا نہیں
شناور اسحاق
No comments:
Post a Comment