کہیں خوف اور کہیں غالب ہے رجا اے زاہد
تیرا قبلہ ہے جدا،۔ میرا جدا اے زاہد
درگزر گر نہیں کرتا وہ گنہگاروں سے
تو تِرا اور کوئی ہو گا خدا اے زاہد
ہم دکھاویں گے کہ زہد اور ہے نیکی کچھ اور
قربِ حق کیلئے کچھ سوزِ نہاں بھی ہے ضرور
خشک نفلوں میں دھرا کیا ہے بھلا اے زاہد
میں تو سو بار ملوں، دل نہیں ملتا تم سے
تُو ہی کہہ اس میں ہے کیا میری خطا اے زاہد
جال جب تک ہے یہ پھیلا ہوا دینداری کا
فکر دنیا کا کرے تیری بلا اے زاہد
عیب حاؔلی کے بہت آج کیے تُو نے بیاں
ذکر کچھ اور کر اب اس کے سوا اے زاہد
الطاف حسین حالی
No comments:
Post a Comment