Sunday, 8 January 2017

شعر میں ذکر کسی کا دل ناکام نہ کر

شعر میں ذکر کسی کا دلِ ناکام نہ کر
اس نے لکھا ہے کہ یوں تو ہمیں بدنام نہ کر
ہر ہوس پیشہ کو ہو جائے نہ الفت کا گماں
اپنے الطاف کو او جانِ جہاں! عام نہ کر
ہر قدم آگے بڑھے ہمتِ مردانۂ دل
عشق کی راہ میں فکرِ سحر و شام نہ کر
جس نے خود عشق کا آغاز کیا ہے یارب
کاش یہ بھی وہی کہہ دے غمِ انجام نہ کر
کوئی ہمدرد ہو کیسے کسی کمزوری کا
دلِ ناداں!! گلۂ گردشِ ایام نہ کر
حشر میں ملنے کی امید تھی وہ بھی نہ رہی
وہ یہ کہتی ہیں کہ ناحق طمعِ خام نہ کر
غیرتِ حسن کو منظور نہیں رسوائی
ضبط اے عشق! اس افسانے کو یوں عام نہ کر
آج ہی آج کے دم سے ہے بہارِ ہستی
فکرِ فردا نہ کر، اندیشۂ انجام نہ کر
ؔناز سے گیسوئے سلمٰی پہ بڑھا ہاتھ اختر
یوں گدایانہ تماشائے لبِ بام نہ کر

اختر شیرانی

No comments:

Post a Comment