برف سورج میں سمندر میں بیاباں دیکھا
رات کو ہم نے عجب خوابِ پریشاں دیکھا
جس کو پردے میں بھی دیکھے سے ہوں خیرہ آنکھیں
ہم نے اس شعلۂ بے باک کو عریاں دیکھا
تشنہ لب ریت کی ہر موج کو دریا سمجھے
زندگی!! تیرے کئی رنگ ہمیں یاد آئے
پتھروں میں کسی تتلی کو جو لرزاں دیکھا
کن طلسمات میں ہوں قید یہ اسرار ہے کیا
جس نے کچھ پوچھنا چاہا اسے حیراں دیکھا
بشر نواز
No comments:
Post a Comment