Sunday, 8 January 2017

جس کو چکھا نہیں کبھی اس کا مزا ہی اور ہے

جس کو چکھا نہیں کبھی اس کا مزا ہی اور ہے
آپ بہشت مانگیے، میری دعا ہی اور ہے
مانا کہ شش جہات پر، اس کی ہیں سائبانیاں
مجھ کو کہیں نہیں اماں، میری خطا ہی اور ہے
ایسا مرض ملا مجھے، جس کا نہیں کوئی طبیب
جائے کہاں دلِ غریب، اس کی دوا ہی اور ہے
میرا نصیب دیکھیے، مر کے بھی نہیں مر سکا
دستِ قضا سے خوف کیا، میری قضا ہی اور ہے
ویسے تو لوگ سب کے سب، مانتے ہیں اسی کو رب
ان کی گواہی اور ہے، میری گواہی اور ہے
یونہی برہنہ سر نہ پھِر، شہر میں چادریں بہت
جو تِرے دل کو ڈھانپ لے، پھر وہ رِدا ہی اور ہے
اس قدر آ گیا ہے فرق، سائے میں روشنی ہے غرق
بزم اداس کیوں نہ ہو، آج دِیا ہی اور ہے

شہزاد احمد

No comments:

Post a Comment