Monday, 9 January 2017

جس وقت اس نے بخت ہمارے بنائے تھے

جس وقت اس نے بخت ہمارے بنائے تھے
میلی ہتھیلیوں پہ ستارے بنائے تھے
کچھ پنچھیوں نے گھونسلے پیڑوں کے جھنڈ میں
اونچی جگہوں پہ خوف کے مارے بنائے تھے
حسبِ مراد دستِ ہنر بولنے لگا
گونگے نے چند ایسے اشارے بنائے تھے
میں نے بس ایک نہر نکالی تھی ہاتھ سے
دریا نے آپ اپنے کنارے بنائے تھے
ہم نے حیا پہن کے محبت شعار کی
گڑیوں کے واسطے بھی غرارے بنائے تھے
دل میں نسیؔم حسن کی تکفیل کے لیے
آنکھوں نے کیسے کیسے ادارے بنائے تھے

نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment