فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے
اٹکا کجھور میں، جو گرا آسمان سے
ملبوسِ زندگی کئی ڈیزائنوں میں تھا
ہم نے لباسِ دار خریدا دکان سے
آباد ہیں پہاڑ کے دامن میں بستیاں
میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ
اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے
کیسے نسیؔم! وقت کو کوئی شکست دے
بوڑھے کا کیا مقابلہ کڑیل جوان سے
نسیم عباسی
No comments:
Post a Comment