Monday, 9 January 2017

فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے

فارغ کہاں ہوا ہے کوئی امتحان سے
اٹکا کجھور میں، جو گرا آسمان سے
ملبوسِ زندگی کئی ڈیزائنوں میں تھا
ہم نے لباسِ دار خریدا دکان سے
آباد ہیں پہاڑ کے دامن میں بستیاں
آتے ہیں روز ٹوٹ کے پتھر چٹان سے
میں ایک حرفِ جار تھا اپنے اور اس کے بیچ
اس نے مجھے نکال دیا درمیان سے
کیسے نسیؔم! وقت کو کوئی شکست دے
بوڑھے کا کیا مقابلہ کڑیل جوان سے

نسیم عباسی

No comments:

Post a Comment