Saturday, 19 September 2020

خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا

 خوباں کے بیچ جاناں ممتاز ہے سراپا

انداز دلبری میں اعجاز ہے سراپا

پل پل مٹک کے دیکھے ڈگ ڈگ چلے لٹک کے

وہ شوخ چھل چھبیلا طناز ہے سراپا

ترچھی نگاہ کرنا کترا کے بات سننا

مجلس میں عاشقوں کی انداز ہے سراپا

نینوں میں اس کی جادو زلفاں میں اس کی پھاندا

دل کے شکار میں وہ شہباز ہے سراپا

غمزہ نگہ تغافل انکھیاں سیاہ و چنچل

یا رب نظر نہ لاگے انداز ہے سراپا

اس کے خرام اوپر طاؤس مست ہے گا

وہ میر دل ربابی طناز ہے سراپا

کشت امید کرتا سرسبز سبزۂ خط

انجام حسن اس کا آغاز ہے سراپا

وقت نظارہ فائزؔ دل دار کا یہی ہے

بستر نہیں بدن پر تن باز ہے سراپا


فائز دہلوی

No comments:

Post a Comment