پھر اقتدار کے لیے مصروفِ جنگ ہیں
وہ لوگ جن کے ہاتھ میں وعدوں کے سنگ ہیں
خالق سے اپنے حسن میں تخلیق بڑھ گئی
سورج میں ایک، روشنی میں سات رنگ ہیں
نعروں پہ قدغنیں ہیں تو چیخیں بلند کر
اب لوگ اس سکوتِ مسلسل سے تنگ ہیں
واعظ کے اہتمامِ مناجات پر نہ جا
یہ تو تمام بندے پھنسانے کے ڈھنگ ہیں
سِپرا دبا کے آگہی کا ریگ مال مار
پُرزے مشینِ فن کے ابھی زنگ زنگ ہیں
تنویر سپرا
No comments:
Post a Comment