Tuesday, 13 October 2020

راہ وفا میں میرے خسارے کی بات کر

 سہمے نحیف دریا کے دھارے کی بات کر

اب دشت بے کراں کے کنارے کی بات کر

دنیا کے مسئلوں میں مجھے بھی شریک رکھ

میرے دریدہ دل کے بھی چارے کی بات کر

رہنے دے ذکر سود کسی اور وقت پر

راہ وفا میں میرے خسارے کی بات کر

معیار کے نہ مجھ کو کم و بیش میں پرکھ

تجھ کو اگر قبول ہوں سارے کی بات کر

ہم بوریا نشین تِرے شاہ بھی تو ہیں

یا لوٹ جا یا ساتھ گزارے کی بات کر

اب آسمان سارا مِری دسترس میں ہے

انگلی اٹھا کسی بھی ستارے کی بات کر


سلیم فگار

No comments:

Post a Comment