کفن سے منہ کی طرح ہیں ڈھکی ہوئی چیخیں
یہ آدمی ہیں کہ غم سے مَری ہوئی چیخیں
اگر فضا میں گھل گئیں تو کیا ہو گا؟
یہ میرے سینے کے اندر دبی ہوئی چیخیں
وہ ریت، ماہِ محرم کی تیز دھوپ، وہ پیاس
کنارِ آب ہیں اب تک رکی ہوئی چیخیں
فلک سے آگ گری ہے زمین والوں پر
نگر میں پھیل گئی ہیں جلی ہوئی چیخیں
ہوائے موسمِ گریہ کے لوٹتے ہی لگا
پرانے زخموں کی صورت ہری ہوئی چیخیں
ہر ایک رات کسی پچھلی رات کی صورت
سنائی جاتی ہیں مجھ کو سنی ہوئی چیخیں
جو ایک عمر سے کانوں میں گونجتی ہیں طریر
میں کاش چیخ سکوں وہ بچی ہوئی چیخیں
دانیال طریر
No comments:
Post a Comment