Wednesday, 14 October 2020

وصل کے لمحے کہانی ہو گئے

 وصل کے لمحے کہانی ہو گئے

شب کے موتی صبح پانی ہو گئے

رفتہ رفتہ زندگانی ہو گئے

غم کے لمحے جاودانی ہو گئے

دولت عہد جوانی ہو گئے

چند لمحے جو کہانی ہو گئے

مسکرائے آپ جانے کس لیے

ہم رہین شادمانی ہو گئے

باتوں ہی باتوں میں راتیں اڑ گئیں

ہائے وہ دن بھی کہانی ہو گئے

تم نے کچھ دیکھا خلوص جذب شوق

سنگ ریزے گل کے پانی ہو گئے

فرحت ایسی بت پرستی کے نثار

بت بھی محوِ لن ترانی ہو گئے


فرحت کانپوری

No comments:

Post a Comment