Wednesday, 2 December 2020

روح کو تڑپا رہی ہے ان کی یاد

 روح کو تڑپا رہی ہے ان کی یاد

درد بن کر چھا رہی ہے ان کی یاد

عشق سے گھبرا رہی ہے ان کی یاد

رکتے، رکتے آ رہی ہے ان کی یاد

وہ ہنسے، وہ زیر لب کچھ کہہ اٹھے

خواب سے دِکھلا رہی ہے ان کی یاد

میں تو خودداری کا قائل ہوں، مگر

کیا کروں پھر آ رہی ہے ان کی یاد

اب خیالِ ترکِ ربط و ضبط ہے

خود بخود شرما رہی ہے ان کی یاد


شکیل بدایونی

No comments:

Post a Comment