Wednesday, 2 December 2020

روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی

روبرو غم کے یہ تقدیر کہاں سے آئی

اور ہتھیلی کی یہ تحریر کہاں سے آئی

دل کے گوشے میں جسے میں نے چھپا رکھا تھا

تیرے البم میں وہ تصویر کہاں سے آئی

دبی خواہش کا تھا اظہار تماشہ گویا

خواب تھا خواب یہ تعبیر کہاں سے آئی

فن کو میدان کھلا چاہئے جینے کے لیے

رقص کی راہ میں زنجیر کہاں سے آئی

زندگی کے ابھی آثار ہیں باقی ورنہ

دور تخریب میں تعمیر کہاں سے آئی

ڈھونڈنے نکلے تھے ہم موت کے معنی لیکن

زندگی کی نئی تفسیر کہاں سے آئی

اس کو آدم ہی کی تقصیر کا ثمرہ کہیے

ورنہ جنت کی یہ جاگیر کہاں سے آئی

وقت کا سیل کرامت تجھے لے ڈوبا تھا

یک بیک یہ تری تدبیر کہاں سے آئی


کرامت علی کرامت

No comments:

Post a Comment