Wednesday, 13 January 2021

چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی

 چمکا ہے یوں نصیب کا تارا کبھی کبھی

ہم کو تو خود اسی نے پکارا کبھی کبھی

لے ڈوبتا ہے دل کو سہارا کبھی کبھی

منجدھار بن گیا ہے کنارا کبھی کبھی

یہ بھی ہوا ہے حال ہمارا کبھی کبھی

اپنے کو ہم نے آپ پکارا کبھی کبھی

اپنے سے بے نیاز ہوا جا رہا ہوں میں

سن سن کے تم سے حال تمہارا کبھی کبھی

ساتھ اپنے شامِ ہجر کے جاگوں کہ آس بھی

لے ڈوبتا ہے صبح کا تارا کبھی کبھی

طوفاں سے بچنے والے بہت شادماں نہ ہو

کشتی پہ پھٹ پڑا ہے کنارا کبھی کبھی

منظر شکایتوں کی تلافی ضرور ہے

اک سجدہ شکر کا بھی خدارا کبھی کبھی


منظر لکھنوی

No comments:

Post a Comment