Friday, 8 January 2021

میرے شہر کا آسماں حیران ہے

 میرے شہر کا آسماں

حیران ہے

اس نے کیا نہ دیکھا

جسم کے ٹکڑے

سناٹوں کی گرج

ریت پر بکھرے گیسو

پہاڑ کے دامن میں زخم خوردہ صورتیں

خون کے آبشار

میرے شہر کا آسماں حیراں ہے


نکہت فاروق نظر

No comments:

Post a Comment