Friday, 8 January 2021

آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بے باک بہت تھے

 آنکھوں میں حیا رکھ کے بھی بیباک بہت تھے

تھے تیرے گنہ گار مگر پاک بہت تھے

میں اپنا سمجھتی رہی ارباب‌ وفا کو

وہ غیر سے ملتے رہے چالاک بہت تھے

یہ بھی کوئی الفت کا طریقہ ہے جہاں میں

رہ رہ کے جلے ہجر میں ہم خاک بہت تھے

معصوم کو پھر مار دیا کوکھ میں ماں کی

قصہ جو سنے ہم نے وہ غمناک بہت تھے

ہم لوگ سؔبیں نرم مزاجی کے پیمبر

جو لوگ ملے ہم سے وہ سفاک بہت تھے


غوثیہ سبین

No comments:

Post a Comment