Tuesday, 2 March 2021

اس کا رشتہ ہے فقط نیند کے آثار کے ساتھ

اس کا رشتہ ہے فقط نیند کے آثار کے ساتھ

خواب لگتا ہی نہیں دیدۂ بیدار کے ساتھ

اس کا انداز محبت میں ڈرامائی ہے

ہو گیا عشق مجھے ایک اداکار کے ساتھ

جو بھی ملتا ہے یہی کہتا ہے؛ آرام کرو

گفتگو کرتا نہیں کوئی بھی بیمار کے ساتھ

ٹھیک ہوتی نہیں جذبوں کی فراوانی بھی

آپ معیار بھی دیکھیں ذرا مقدار کے ساتھ

آ ہی جاتا ہے بُرا وقت، ذرا دھیان رہے

لگنا پڑتا ہے ہر اک شخص کو دیوار کے ساتھ

یاد رکھو یہ خوشی غم میں بدل سکتی ہے

یعنی اِنکار بھی ہو سکتا ہے اِقرار کے ساتھ

لوگ انسان کی قیمت بھی لگا سکتے ہیں

گھر بنایا نہیں کرتے کبھی بازار کے ساتھ

دن کا آغاز پرندوں میں کروں گی میں، اور

شام گزرے گی مِری شام کے اخبار کے ساتھ


گل حوریہ 

No comments:

Post a Comment