Tuesday, 2 March 2021

آنکھ کا نور بھی کھو جائے ستارہ نہ ملے

 آنکھ کا نور بھی کھو جائے ستارہ نہ ملے

بحرِ ظلمات میں بھٹکیں تو کنارہ نہ ملے

ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک جائیں اسے شہر بہ شہر

جس نے چِھینا ہے سکوں اپنا، دوبارہ نہ ملے

روز ہی خواب میں آواز سنیں اس کی ہم

خواب سے اٹھ کے جو دیکھیں تو نظارہ نہ ملے

بیعتِ درد کرے شہر یہ سارا اپنی

مڑ کے دیکھیں تو کوئی شخص ہمارا نہ ملے

کیسے لے لیتے زرِ دہر کبھی اپنے لئے

اپنی ہی سانس پہ جب ہم کو اجارہ نہ ملے

کون سے دشت میں جائیں کہ ملے ہم کو پناہ

دل کی دیوار کا جب ہم کو سہارا نہ ملے


اشفاق عامر 

No comments:

Post a Comment