عشق میں اس قدر ستم کر کے
کیا ملا میری آنکھ نم کر کے
سب کوحیرت میں میں نے ڈال دیا
گفتگو ختم ایک دم کر کے
عشق نے مستیاں بڑھا دی ہیں
خوش بہت ہیں غزال رم کر کے
آنکھ گریہ پسند ہے میری
لوٹتی ہوں ذرا سا غم کر کے
روشنی آگ میں بدل رہی ہے
کیوں نہ رکھ دوں چراغ کم کر کے
نیند کتنا غرور کرتی ہے
میری آنکھوں میں خواب ضم کر کے
اس کی رائے ہے کیا محبت پر
اس سے دیکھیں گے بات ہم کر کے
گل حوریہ
No comments:
Post a Comment