Thursday, 4 March 2021

عشق میں اس قدر ستم کر کے

 عشق میں اس قدر ستم کر کے 

کیا ملا میری آنکھ نم کر کے

سب کوحیرت میں میں نے ڈال دیا

گفتگو ختم ایک دم کر کے

عشق نے مستیاں بڑھا دی ہیں

خوش بہت ہیں غزال رم کر کے 

آنکھ گریہ پسند ہے میری 

لوٹتی ہوں ذرا سا غم کر کے

روشنی آگ میں بدل رہی ہے

کیوں نہ رکھ دوں چراغ کم کر کے

نیند کتنا غرور کرتی ہے

میری آنکھوں میں خواب ضم کر کے

اس کی رائے ہے کیا محبت پر

اس سے دیکھیں گے بات ہم کر کے


گل حوریہ

No comments:

Post a Comment