دل کے بھید کو پائے کون
یہ پتھر پگھلائے کون
کون لگائے خود کو آگ
دِیپک راگ سنائے کون
اُجڑی بستی کے رستے
جُز آسیب بسائے کون
جن کا ایندھن دل کا خوں
ایسے دِیپ جلائے کون
یہ منزل آسان نہیں
اپنی راہ بنائے کون
کچھ تو ہے اس وحشت میں
ورنہ پتھر کھائے کون
پاگل ہے دل تیرے لیے
پاگل کو سمجھائے کون
اصلی صورت سچا عکس
دیکھے کون، دِکھائے کون
ناصرہ زبیری
No comments:
Post a Comment