Thursday, 1 April 2021

شکایت ہے بہت لیکن گلہ اچھا نہیں لگتا

 شکایت ہے بہت لیکن گِلہ اچھا نہیں لگتا

دلوں کی بات ہے کم حوصلہ اچھا نہیں لگتا

نمی آنکھوں میں سوز دل کا عنوان تکلم ہے

مگر خاموش اشکوں کا صِلہ اچھا نہیں لگتا

ادھر آنا نہ جانا ہی ادھر گم کردہ راہی ہے

تذبذب کا مجھے یہ مرحلہ اچھا نہیں لگتا

مسرت اور غم دونوں کی کوئی حد ضروری ہے

کسی بھی ایک شے کا سلسلہ اچھا نہیں لگتا

بُرا لگتا ہے ہم کو اک تناسب کا بگڑ جانا

کچھ ایسے لوگ ہیں جن کو بھلا اچھا نہیں لگتا

عتیق ایسا بھی جینا کوئی جینا ہے بھلا آخر

نہ ہووے جس میں جوش و ولولہ اچھا نہیں لگتا


عتیق اثر

No comments:

Post a Comment