Thursday, 1 April 2021

خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا

 خوشبوؤں کا شجر نہیں دیکھا

ایک مدت سے گھر نہیں دیکھا

رہگزر ہم نے ایسی چُن لی تھی

میلوں دیوار و در نہیں دیکھا

تم جو بدلے تو کیا غضب بدلے

ہم نے ایسا اثر نہیں دیکھا

اتنی بوجھل ہوئی تھی یہ پلکیں

اس کو دیکھا، مگر نہیں دیکھا

چاند کیسے زمیں پہ چلتا ہے

جس نے اس کو اگر نہیں دیکھا

آئینہ ہم سے روز پوچھے ہے

خود کو کیوں بن سنور نہیں دیکھا

خط کو چُوما اسی کی خُوشبو تھی

خط کے اندر مگر نہیں دیکھا

تم سے بچھڑے تو کیسے زندہ ہیں

تم نے یہ سوچ کر نہیں دیکھا


سنجیو آریہ

No comments:

Post a Comment