Saturday, 3 April 2021

وہ کیا ہوتے ہیں پر تم ان کو کیا سے کیا سمجھتی ہو

 وہ کیا ہوتے ہیں پر تم ان کو کیا سے کیا سمجھتی ہو

کہ جو بھی ہنس کے مل لے اسے اپنا سمجھتی ہو

محبت کے سفر میں ساتھ رکھو ہم سفر کوئی

وہ اک گہرا سمندر ہے جسے رستہ سمجھتی ہو

چلو ہم مان لیتے ہیں کہ ملنا شرط ہی کب تھی

مگر تم فاصلوں کو بھی کوئی رشتہ سمجھتی ہو

اداسی تم پہ آ جائے تو اس جانب نظر کرنا

جہاں پر کوئی بیٹھا ہو جسے اپنا سمجھتی ہو

تم اس کی ذات کا حصہ تم اس کی سوچ کا محور

تمہارا جسم ہے وہ تم جسے سایہ سمجھتی ہو

نہیں آنسو بہانا تم اگر وہ یاد آئے بھی

تمہارے ساتھ ہے وہ خود کو کیوں تنہا سمجھتی ہو

پلٹ کے دیکھنا تو جاگتے موسم کی ہر رُت میں

تمہیں وہ ہی ملے گا جس کو تم پیارا سمجھتی ہو

تِری تنہائیوں کو بانٹنے والا وہی اک ہے

جسے ہاشم جو کہتی ہو تو ہاشو سا سمجھتی ہو


سید ہاشم رضا

No comments:

Post a Comment