Saturday, 3 April 2021

نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی

 نہیں ہے یوں کہ بس میری خوشی اچھی نہیں لگتی

اسے تو میری کوئی بات بھی اچھی نہیں لگتی

میں نفرت اور محبت دونوں میں شدت کا قائل ہوں

مجھے جذبوں کی یہ خانہ پُری اچھی نہیں لگتی

میں اپنی ذات میں بھی اک خلا محسوس کرتا ہوں

تمہارے بعد کوئی چیز بھی اچھی نہیں‌ لگتی

بس اک طرزِ رفاقت ہے نبھاتے ہیں جسے ورنہ

بہت سے دوستوں سے دوستی اچھی نہیں لگتی

یقیناً نقطہ سنجی اک حوالہ ہے ذہانت کا

مگر ہربات کی تردید بھی اچھی نہیں ‌لگتی

اچانک تیرے آنے کی خوشی کچھ اور ہوتی ہے

مجھے بادِ صبا کی مخبری اچھی نہیں لگتی

تجھے ہنستے ہوئے دیکھا ہے میں نے سب حوالوں سے

تیرے چہرے پہ یہ افسردگی اچھی نہیں لگتی

تبسم یہ میرا ایمان ہے جب تک حریفوں کا

قد و قامت نہ ہو تو دشمنی اچھی نہیں لگتی


نذیر تبسم

No comments:

Post a Comment