ہر ایک شخص یہاں مبتلائے حیرت ہے
جو آگہی میں ہے وہ ماورائے حیرت ہے
سُنا ہے آج بھی وہ مجھ کو یاد کرتا ہے
پر اس خبر میں خوشی کے بجائے حیرت ہے
مِرے سکھائے بھی شامل ہیں نقطہ چینوں میں
کہ بڑھ گئے ہیں مِرے قد سے سائے حیرت ہے
ہمیں تُو اتنی مسافت کے بعد بھی نہ ملا
کسی کو مل گیا بیٹھے بٹھائے، حیرت ہے
حواس باختہ ہوں سن کے میں تِری باتیں
رکھے ہے تُو بھی محبت پہ رائے حیرت ہے
جہاں سے گزرے وہ ہر چیز ٹھیر جاتی ہے
فقط وہ لڑکی نہیں اک سرائے حیرت ہے
یہاں تو کوئی بصیرت زدہ نہیں ملنا
چہار سمت عجب سی وبائے حیرت ہے
میں ان تمام مناظر کا ہوں بہت ممنون
کہ جن کے حُسن کے صدقے بقائے حیرت ہے
حارث جمیل
No comments:
Post a Comment