Thursday, 17 June 2021

زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے

 زمیں مدار سے اپنے اگر نکل جائے

نہ جانے کون سا منظر کدھر نکل جائے

اب آفتاب سوا نیزے پر اُترنا ہے

گرفت شب سے ذرا یہ سحر نکل جائے

ثمر گِرا کے بھی آندھی کی خو نہیں بدلی

یہی نہیں کہ جڑوں سے شجر نکل جائے

اب اتنی زور سے ہر گھر پہ دستکیں دینا

اگر جواب نہ آئے تو در نکل جائے

میں چل پڑا ہوں تو منزل بھی اب ملے گی نوید

یہ راستہ مجھے لے کر جدھر نکل جائے


اقبال نوید

No comments:

Post a Comment