Wednesday, 2 June 2021

چھن گیا سائباں دربدر ہو گیا

 چھن گیا سائباں در بدر ہو گیا

مر گئی جب سے ماں دربدر ہو گیا

شہر بھی ہے وہی لوگ بھی ہیں وہی

ڈھونڈتے آشیاں در بدر ہو گیا

ہر گلی ہر سڑک دیکھی بھالی مِری

ہائے قسمت کہاں دربدر ہو گیا

کوئلوں بلبلوں کا جو تھا ہمنوا

دیکھ لے باغباں دربدر ہو گیا

جھڑکیوں ہچکیوں کے سفر میں رہا

بخت کے درمیاں دربدر ہو گیا

اوڑھ کر وحشتیں پھرتا ہوں کو بہ کو

ٹھہروں میں اب کہاں در بدر ہو گیا

دکھ بھری زندگی لٹ گئی ہر خوشی

بول کر داستاں دربدر ہو گیا

اپنے حالات کا ستایا ہوا

آج مالک مکاں دربدر ہو گیا


نیاز احمد عاطر

No comments:

Post a Comment