گریز
دل کے ویرانے میں پھر آج تِری یاد آئی
پھر معطر ہے تِری زلف کی خوشبو سے دماغ
پھر ہیں مہکے ہوئے تیرے لب و رُخسار کے باغ
پھر خیالوں پہ تِرے قرب کی حسرت چھائی
آج پھر دشمن ایماں ہے تِری انگڑائی
گُل کھِلانے لگے پھر مردہ تمناؤں کے داغ
پھر سے لو دینے لگے گُل تھے جو مدت سے چراغ
پھر تِرے لمس کی خواہش نے قیامت ڈھائی
حنیف کیفی
No comments:
Post a Comment