Friday, 20 August 2021

دے کے دستک شباب آتا ہے

 دے کے دستک شباب آتا ہے

بن بلائے حجاب آتا ہے

پہلے آنکھوں میں خواب آتا ہے

تب کہیں انقلاب آتا ہے

پھر تو رہتی نہیں ندی بیوہ

جب پہاڑوں سے آب آتا ہے

ساقیا تیرے بادہ خانے میں

صرف عزت مآب آتا ہے

کیسے مل پائے گی ہمیں جنت

واعظوں کو حساب آتا ہے

ایسے آتے ہیں وہ مِری جانب

جیسے جامِ شراب آتا ہے

وہ بھی آتے ہیں بام پر ایسے

جس طرح ماہ تاب آتا ہے

ان کے حصے میں آئیں تعبیریں

میرے حصے میں خواب آتا ہے

دن میں کر لو سبھی دیے روشن

ان کے رخ پر نقاب آتا ہے

تحفہ دیں گے تمہیں جو پھولوں کا

ہم کو بھی انتخاب آتا ہے

تم چلو گے جو سمت مے خانہ

پیچھے پنچھی جناب آتا ہے


سردار پنچھی

کرنیل سنگھ

No comments:

Post a Comment