سرِ بازار نہ دستار اچھالی جائے
جو سنبھل سکتی ہے اب بات سنبھالی جائے
در و دیوار کا کیا دوش تھا، کیا چھت کی خطا
ان پہ بنیاد کی تہمت نہیں ڈالی جائے
بادباں ڈھونڈ کے سمتوں کا تعین کیا جائے
ناخداؤں سے اب امید اٹھا لی جائے
گھر کی تنگی ہوئی، اک وسعتِ صحرا نہ ہوئی
لوٹ جانے کی کوئی راہ نکالی جائے
دل میں جو لہر اٹھے، اس سے کنارا کیا جائے
نیند تعبیر کے خوابوں سے بچا لی جائے
دیکھنا کوئی ہدف تیر سے ہٹ کر نہ رہے
دیکھنا اس کا کوئی وار نہ خالی جائے
ایسے رکتا ہے، کہو ایک کماں سی تنی ہے
ایسے چلتا ہے، کہو پھولوں کی ڈالی جائے
نیا موسم ہے، ہوا بادۂ سِن خوردہ سی
شعرِ حافظ سے کوئی فال نکالی جائے
ابر ہے، آب ہے، بادہ ہے، ہوا ہے، ہم ہیں
سب اشارے ہیں کوئی پیاس بجھا لی جائے
بشارت گیلانی
No comments:
Post a Comment