جھوٹ پر جھوٹ کی بھر مار لیے پھرتا ہے
وہ میرے شہر میں اخبار لیے پھرتا ہے
زندگی فلم ہے اس فلم میں رہنے کے لیے
آدمی سیکڑوں کردار لیے پھرتا ہے
تیری رحمت کے فرشتوں کو اے میرے مولیٰ
اپنے کاندھوں پہ گنہ گار لیے پھرتا ہے
سال ہا سال جیوں اس کی دعا تھی ورنہ
کب دوا شوق میں بیمار لیے پھرتا ہے
تجھ کو معلوم ہو تیری ہی گلی میں عابد
تیرے دیدار کی درکار لیے پھرتا ہے
عرفان عابد
No comments:
Post a Comment