Sunday, 19 September 2021

اس سے آگے زندگی معدوم ہے

اس سے آگے زندگی معدوم ہے

نقش بنتے اور بگڑتے ہیں یہاں

اس جگہ پر شکلِ آب و گِل بدلتی ہے

آخری سرحد ہے یہ

آخری سرحد جہاں

کوزوں کا پانی بدلا جاتا ہے

یہیں سے چار موسم 

فاصلۂ حدِ مکاں تا لا مکاں ترتیب پاتے ہیں

یہیں سے روشنائی پُھوٹتی ہے

ہوا کو پیڑ اُگتے ہیں

یہیں سے سانس کا رستہ نکلتا ہے

اور آخر موڑ پر دم ٹوٹ جاتا ہے

یہاں پر سب تماشے ختم ہوتے ہیں

آخری سرحد ہے یہ

اس سے آگے زندگی معدوم ہے


دلاور علی آزر

No comments:

Post a Comment