Monday, 11 October 2021

جانے کا محفلوں میں کبھی من نہیں ہوا

 جانے کا محفلوں میں کبھی من نہیں ہوا

دل کش اسی لیے تو لڑکپن نہیں ہوا

بارش میں کاغذوں کی بناتے تھے کشتیاں

یادوں سے دور اب بھی وہ بچپن نہیں ہوا

افسوس ظلمتوں کے اندھیرے ہیں چار سُو

"بستی میں اک چراغ بھی روشن نہیں ہوا"

اس دل میں اب کسی کی بھی کوئی جگہ نہیں

یہ دل کسی کے واسطے مسکن نہیں ہوا

تم جانتے ہو دوستی کس شےکا نام ہے

بس ہاتھ ملا لینا تو بندھن نہیں ہوا


ارم شفیق

No comments:

Post a Comment