Monday, 11 October 2021

مرے تو سب دوست یار دکھ ہیں ہزار دکھ ہیں

 مِرے تو سب دوست یار دُکھ ہیں، ہزار دُکھ ہیں

تِرے تو بس تین چار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

جوان بیٹے کے بم سے مرنے کا دکھ عجب ہے

کہ جس پہ خود سوگوار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

جو پھل کے ٹھیلے کے پاس کمسن کھڑا ہے اس کے

یہ آم🥭، کیلے🍌، انار، دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

وہ کیسے سمجھیں جو ماں کے ہاتھوں سے کھا رہے ہیں

جو اس سمندر کے پار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

جوان بیٹی کا حُسن غربت مٹا رہی ہے

پدر کے سر پر سوار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

تجھے گنوا کر جو گھر کو لوٹا تو میں نے دیکھا

کہ منتظر با قطار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں

خوشی کا منظر ہے اور میں ہوں جناب عالی

بہ وسط حائل غبار دکھ ہیں، ہزار دکھ ہیں،


علی پیر عالی

No comments:

Post a Comment