Sunday, 3 October 2021

مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے

 مدہوش کہیں غم کی شرابوں میں ملیں گے

فنکار ہیں ہم خانہ خرابوں میں ملیں گے

ناقدریٔ ارباب ہنر آج ہے، لیکن

کل بن کے سند ساری کتابوں میں ملیں گے

ٹکرا کے پہاڑوں سے پلٹ آئے گی آواز

خود میرے سوالات جوابوں میں ملیں گے

جو لوگ ہیں دیرینہ روایات کے قاتل

تجدیدِ تعلق کے عذابوں میں ملیں گے

نفرت کے بھنور نے جو ڈبویا ہمیں محور

اب ہم بھی محبت کے سرابوں میں ملیں گے


محور نوری

No comments:

Post a Comment