Sunday, 3 October 2021

چاند نکلے نہ کہیں یار پرانے نکلے

چاند نکلے نہ کہیں یار پرانے نکلے

کوئی کمبخت مِرا دل تو جلانے نکلے

غمِ نازک کو تبسم نے کیا پردہ نشیں

اشک دشمن کی طرح راز بتانے نکلے

میں تو بس سرد ہوا کھانے کو چھت پر آیا

وہ بھی سوکھے ہوئے کپڑوں کو اٹھانے نکلے

اس کا غم تھا کہ مِرے دل پہ سلیماں کی مہر

اشک نکلے کہ یہ موتی کے خزانے نکلے

مجھ پہ صحرا میں بھی اک سنگ کسی نے پھینکا

میرے آگے تو یہ مجذوب سیانے نکلے

دور حاضر کے سخن ساز ہیں کس عجلت میں

صبح دیوان کہا،۔ شام چھپانے نکلے

پھر سے بے تاب ہے اس چاند کا پارہ پارہ

ہائے، وہ چاند تو انگلی کو نچانے نکلے

مُشکِ نیپال نے عالم سے مشائخ کھینچے

کھودی مٹی تو کئی دفن خزانے نکلے

تیری گلیوں کا پتا مُشک سے معلوم کیا

پھر اسی اور کئی بگڑی بنانے نکلے


سرور نیپالی

No comments:

Post a Comment