Thursday, 7 October 2021

کبھی نفی کبھی اثبات کر کے دیکھتے ہیں

 کبھی نفی کبھی اثبات کر کے دیکھتے ہیں

ہم اپنے آپ کو اثبات کر کے دیکھتے ہیں

یہ دیکھنا ہے کہ وہ کون سی چلے گا چال

بساطِ عشق پہ شہ مات کر کے دیکھتے ہیں

انہیں ہماری محبت کا جب نہیں احساس

تو خود کو بے حسِ احساس کر کے دیکھتے ہیں

جو بات دل میں ہے ان کی زباں پہ آ جائے

کچھ ان سے ایسے سوالات کر کے دیکھتے ہیں

وہ جس کا سارے فسانے میں کوئی ذکر نہ تھا

نعیم! آج وہی بات کر کے دیکھتے ہیں

نعیم! مصرعۂ برجستۂ فراز پڑھو

’یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں‘


نعیم حامد

No comments:

Post a Comment