Thursday, 7 October 2021

خود ہی نہیں حیات میں آیا ہوا ہے درد

خود ہی نہیں حیات میں آیا ہوا ہے درد

کر کے رقم خوشی کو کمایا ہوا ہے درد

اک دل نہیں ہمارا ہے اس کے نشانے پر

رگ رگ نفس نفس میں سمایا ہوا ہے درد

اب بھیگتی نہیں ہے الم سے ہماری آنکھ

غم کی تمازتوں میں سکھایا ہوا ہے درد

دُکھتی ہے ٹیس آنکھوں میں چیخیں خموش ہیں

کچھ اس طرح جگر میں دبایا ہوا ہے درد

ہر آنکھ ہے بُجھی بُجھی چہرہ اداس ہے

جیسے فضا پہ شہر کی چھایا ہوا ہے درد

خوشیوں کے ساتھ ملتا رہے لطفِ غم ہمیں

خوشیوں میں ہم نے تھوڑا ملایا ہوا ہے درد

ان کو جدائی ہم سے بھلا کیوں گوارہ ہو

ناز و ادا سے ہم نے اٹھایا ہوا ہے درد


غزالہ تبسم

No comments:

Post a Comment