بہت یاد آتے ہو
جب شام کے سائے لہرائیں
جب دیپ گھروں میں جل جائیں
سب پنچھی گھروں کو جب جائیں
تب یاد بہت تم آتے ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
در آئے بہاروں کا موسم
بہکے نظاروں کا موسم
جب پھول کہیں پر کھل جائیں
جب گیت فضا میں گھل جائیں
جب ٹوٹے ہوئے دل مل جائیں
تب یاد بہت تم آتے ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
جب ہجر کا موسم چھایا ہو
اور ساتھ نہ اپنا سایا ہو
ہر سانس بھی لگتی مایا ہو
تب یاد بہت تم آتے ہو
تم یاد مجھے کیوں آتے ہو
تم یاد مجھے کیوں آتے ہو
رقیہ غزل
No comments:
Post a Comment