ہم آج تک نہ ہو سکے جمہوریت شعار
ہوتی رہی ہے فوج مشرف بہ اقتدار
خوفِ خزاں ہے کوئی نہ اندیشۂ بہار
ہے دستِ بے حساں میں گلستاں کا کاروبار
سب جانتے ہیں کس لیے باقی نہیں رہا
عمّال پر بھروسہ، عدالت پہ اعتبار
چُنتی ہے جن کو قوم، ہٹاتا ہے ان کو کون
کرتا ہے کون پشت سے جمہوریت پہ وار
فخرالدین بلے
No comments:
Post a Comment