تلافی وفا کی جفا چاہتا ہوں
تمہیں خود یہ کہہ دو بُرا چاہتا ہوں
کوئی مول لے تو بِکا چاہتا ہوں
میں صاحب سے بندہ ہوا چاہتا ہوں
تمہیں چاہو مجھ کو تو کیا چاہیے پھر
میں اس کے سوا اور کیا چاہتا ہوں
مِرا مدعا کیا سمجھتے نہیں ہو
تمہیں چاہتا ہوں تو کیا چاہتا ہوں
مسیحا ہو گر تم تو اپنے لیے ہو
میں اپنے مرض کی دوا چاہتا ہوں
تمہیں چاہوں میں تم رقیبوں کو چاہو
یہ انصاف پیشِ خدا چاہتا ہوں
ظہیر دہلوی
No comments:
Post a Comment