Thursday, 7 October 2021

بھول گیا ہوں اپنا انجام ساقی

 بھول گیا ہوں اپنا انجام ساقی

پلا دیا یہ کیسا جام🍷 ساقی؟

برسوں سے میرے ہوش نہیں اڑے

اک جھلک، کبھی اک شام ساقی

تجھ بِن میرے دن بھی اندھیرے ہیں

تُو ملے تو روشن ہوں میرے شام ساقی

تیری گلی چھوڑ کے کہاں جاؤں؟

روشن یہاں سے ہوا مِرا نام ساقی

اشکوں سے آنکھیں میری بھر آئیں

برسوں بعد ملے جب تِرے سلام ساقی

ہر اک نصیب میں کہاں جام عشق؟

بن پیۓ نہیں ہوتا کوئی نام ساقی

اشک میرے اب تک ہیں رواں آثار

یونہی زندگی بسر ہو گی تمام ساقی


سراج آثار

No comments:

Post a Comment