عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہم زمانے میں پھرے دل کو حرم میں رکھا
حرمِ پاک کو اس دیدۂ نم میں رکھا
جو بھی لکھا ہے وہ انوار صفت لکھا ہے
اسمِ احمدﷺ نے یہ اعجاز قلم میں رکھا
دل کو دنیا کے جھمیلوں میں الجھنے نہ دیا
اس کو بس جستجوئے باغِ ارم میں رکھا
دوش پر لے کے صبا مجھ کو مدینے پہنچی
جذبۂ شوق کوہر ایک قدم میں رکھا
خاکِ طیبہ کونگاہوں سے نہ اوجھل جانا
اس تصور کوعرب اور عجم میں رکھا
روزِ محشر بھی عنایت کی نظر ہو،جیسے
عمر بھر سایۂ دامانِ کرم میں رکھا
نورین طلعت عروبہ
No comments:
Post a Comment