Sunday, 21 November 2021

فضول زاد سفر کو بڑھا لیا میں نے

 فضول زادِ سفر کو بڑھا لیا میں نے

طلب تھی بوند کی دریا اٹھا لیا میں نے

ہدف تو روح تھی اس تیر کا مِری لیکن

بدن پہ اپنی مہارت سے کھا لیا میں نے

مِری طلب کا مکمل نہ بن سکا چاہے

کسی کو حسبِ ضرورت بنا لیا میں نے

شکستہ جسم بھی چلنے لگا ہے اچھا بھلا

بس ایک ضبط کا پرزہ نیا لیا میں نے

قریب تھا مِرا سارا بدن جلا دیتا

پھر ایک آگ سے پانی بجھا لیا میں نے

طویل بحث سے قائل نہ دل ہوا گاہے

تو گاہے عقل کو پَل میں منا لیا میں نے


عزم الحسنین عزمی

No comments:

Post a Comment