Tuesday, 2 November 2021

سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

 سر چھپانے کے لیے چھت نہیں دی جا سکتی

ہر کسی کو یہ سہولت نہیں دی جا سکتی

سانس لینے کے لیے سب کو میسر ہے ہوا

اس سے بڑھ کر تو رعایت نہیں دی جا سکتی

تم کو راس آئے نہ آئے مِری بستی کی فضا

یاں کسی جاں کی ضمانت نہیں دی جا سکتی

ایک مدت کے شب و روز لہو ہوتے ہیں

طشت میں رکھ کے قیادت نہیں دی جا سکتی

زیست اور موت کا آخر یہ فسانہ کیا ہے

عمر کیوں حسبِ ضرورت نہیں دی جا سکتی

ان دریچوں سے کوئی موجۂ خوش کن آئے

راحتِ جاں یہ اجازت نہیں دی جا سکتی

سوزِ دل تحفۂ قدرت ہے وگرنہ عظمی

برف کو نرم حرارت نہیں دی جا سکتی


خالدہ عظمی

No comments:

Post a Comment