Tuesday, 2 November 2021

اک عجب آگ سی ہے سینے میں

 وہ ایک آگ



اک عجب آگ سی ہے سینے میں

جیسے ہو سینۂ شمشیر کی آگ

اک عجب آگ سی ہے باطن میں

جیسے ہو نالۂ شبگیر کی آگ

جیسے اک شعلۂ جوالہ فلک کو چھو لے

سینۂ سرد میں میرے ہے وہی آگ ابھی

تودۂ برف سے جو بجھ نہ سکے

بن کے شعلہ یہ بڑھی جاتی ہے

سوئے افلاک اٹھی جاتی ہے

اس کی زد میں ہیں

یہ اشیائے نظام عالم

بس کہ اک خوف ہے پہلو میں مرے

اپنی ہی آگ سے افکار نہ جل جائیں کہیں

سوچتا ہوں کہ دعا ہی مانگوں

میرے آتش کدۂ سینہ کو

میرا رب لطف و کرم کا کوئی چشمہ کر دے


کوثر مظہری

No comments:

Post a Comment