Tuesday, 2 November 2021

ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی

 ہمیں تو اب کے بھی آئی نہ راس تنہائی

تمہیں بتاؤ کہ ہے کس کے پاس تنہائی؟

اسے بھی اب کے بہت رنج نارسائی ہے

کھڑی ہے شہر کی سرحد کے پاس تنہائی

اسی لیے تو نہ صحرا میں ہے نہ بستی میں

کہ ہو نہ جائے کہیں بے لباس تنہائی

طویل ہجر نے دونوں کو یوں خراب کیا

کہ اس کے پاس نہ اب میرے پاس تنہائی

اندھیری رات میں آنکھوں میں خواب کی صورت

کبھی کبھی نظر آئی اداس تنہائی


مہتاب حیدر نقوی

No comments:

Post a Comment