Tuesday, 2 November 2021

تھا جو اک کافر مسلماں ہو گیا

 تھا جو اک کافر مسلماں ہو گیا

پل میں ویرانہ گلستاں ہو گیا

چھپ کے پی تھی کل جہاں پہ شیخ نے

اس جگہ قائم خُمستاں ہو گیا

چارہ گر کی اب نہیں حاجت مجھے

درد ہی خود بڑھ کے درماں ہو گیا

مجھ پہ کوئی ہو گیا ہے مہرباں

قتل کا اب اپنے ساماں ہو گیا

ہے تغافل ہی کا تیرے فیض کچھ

رفتہ رفتہ میں غزل خواں ہو گیا

مجھ کو اس محفل میں جانا ہی نہ تھا

دل فدائے روئے خوباں ہو گیا

بے وفا سے عشق کا انجام ہے

یہ جو خوشتر خون ارماں ہو گیا


منصور خوشتر

No comments:

Post a Comment